3 نومبر 2014 - 22:54
اسلامي دنيا سے مسجدالاقصي کي تحفظ کي اپيل

حماس کے نائب سربراہ اور سابق وزير اعظم اسماعيل ہنيہ نےعرب ممالک اور اسلامي دنيا سے اپيل کي ہے کہ صيہوني حکومت کے جارحانہ اقدامات سے مسجد الاقصي کے تحفظ کے لئے فوري طور پر ضروري اقدامات کريں -

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامي مزاحمتي تحريک حماس کے نائب سربراہ اور سابق وزير ا‏عظم اسماعيل ہنيہ نے تمام عرب حکومتوں اور اسلامي ممالک سے مطالبہ کيا ہے کہ قبلہ اول کے تئيں اپنے فرائض سے غفلت نہ برتيں اور غاصب صيہوني حکومت کے اقدامات کے مقابلے ميں مسجد الاقصي کي حفاظت کے لئے فوري طور پر ضروري اقدامات کريں -

ياد رہے کہ غاصب صيہوني حکومت نے ايک انتہا پسند صيہوني مذہبي پيشوا کے زخمي ہونے کے واقعے کو بہانہ بناکے جمعرات سے مسجدالاقصي کے دروازے فلسطينيوں کے لئے بند کرديئے ہيں - انتہا پسند صيہوني مذہبي پيشوا يہودا گليک گزشتہ بدھ کو مسجد الاقصي پر حملے کے دوران فائرنگ کا نشانہ بن کے سخت زخمي ہوگيا تھا - بعض رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ يہودا گليک ہلاک ہوگيا ہے -

حماس کے نائب سربراہ اسماعيل ہنيہ نے غزہ ميں ايک اجتماع سے خطاب ميں کہا کہ بيت المقدس کے بارے ميں صرف تقريريں کرنا، صيہوني حکومت کے جارحانہ اقدامات کي زباني مذمت کرنا حتي اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل ميں شکايت کرنا بھي بے فائدہ ہے-
انہوں نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کي ہے کہ پوري اسلامي اور عرب دنيا صيہوني حکومت کے مقابلے پر کمر بستہ ہوجائے - اسماعيل ہنيہ نے کہا کہ بيت المقدس فلسطينيوں اور مسلمانوں کا ہے - انہوں نے کہا کہ مسجد الاقصي کي حفاظت اور دفاع کرنے والے فلسطينيوں کي حمايت ہوني چاہئے اور ان کي سياسي نيز مالي ضروريات کا بھي خيال رکھنا چاہئے -

حماس کے ايک اور رہنما طلال نصار نے کہا ہے کہ تحريک اسلامي مزاحمت، حماس مسجد الاقصي کے تعلق سے صيہوني حکومت کے جارحانہ اقدامات پر خاموش نہيں رہے گي - انہوں نے کہا کہ اگر صيہوني دشمن نے مسجد الاقصي کي بے حرمتي کي تو صيہوني بستيوں پر راکٹوں کي بارش دوبارہ شروع کردي جائے گي -

فلسطيني اتھارٹي کے سربراہ محمود عباس نے بھي صيہوني حکومت سے کہا ہے کہ بيت المقدس اور مسجد الاقصي کي بے حرمتي سے باز رہے - محمود عباس نے کہا کہ ہم کسي بھي صورت ميں بيت المقدس اور مسجد الاقصي پر حملہ برداشت نہيں کريں گے-

انہوں نے کہا کہ ہم بيت المقدس ميں حالات خراب نہيں کرنا چاہتے اور اسرائيل سے مطالبہ کرتے ہيں کہ اس شہر ميں امن قائم کرنے کي کوشش کرے اور مسجد الاقصي کے دروازے فلسطينيوں کے لئے کھول دے -محمود عباس نے صيہوني حکومت کے وزير اعظم نيتن ياہو سے مطالبہ کيا کہ انتہا پسند صيہونيوں کو اس بات کي اجازت نہ ديں کہ وہ مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصي کي توہين کرکے فلسطيني عوام اور مسلمين عالم کے جذبات کو مجروح کريں -
.......

/169